Urdu Text

باتیں اور گھاتیں

اردو غیر اردو

with one comment

اردو غیر اردو

مصنف: سمرقندی

یہ مضمون اردو ویکیپیڈیا پر جناب سمرقندی صاحب نے تحریر کیا۔ بعد میں احمقانہ اعتراضات کو دیکھتے ہوئے انھوں نے خود حذف کر دیا، تحریر کی اہمیت کی وجہ سے یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔

سواۓ شاعری ، نثر (ادبی) اور مذہب کے ، تمام تر علوم میں انتہائی پسماندہ اردو زبان کے لیۓ اردو دائرۃ المعارف نے ابتداء سے ہی یہ کوشش رکھی کہ جس قدر ہوسکے ان علوم کی اصطلاحات کو اردو ہی میں درج کیا جاۓ جو کہ اردو سے غالبا{{زبر}} یکسر ناپید ہیں۔ اس کوشش کے دوران جب کسی اصطلاح کا ایسا اندراج سامنے آۓ کہ جو عربی ابجد کو استعمال کرتے ہوۓ انگریزی میں (یعنی عربیزدہ انگریزی) لکھا گیا ہو تو دائرۃ المعارف کی جانب سے اس کی اصلاح کر کہ اردو متبادل سے تبدیل کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔ اس سعی پر جو بار بار کا ایک گھسا پٹا ردعمل سامنے آتا ہے وہ ہے کہ ؛ ——{{لقمہ}} "اردو میں ہر زبان کا لفظ سمو لینے کی صلاحیت ہے” {{بند}}—— اور اس دقیانوسی رٹے رٹاۓ جملے کو ادا کر کہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ تمام مسائل حل ہوگۓ اور اب اردو میں کسی ترقی کی ضرورت باقی نہیں رہی کہ وہ تو ہر زبان سمو لینے کی قدرتی صلاحیت سے مالا مال ہے ہی ، ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔

==مولوی یا کچھ اور؟==

فی الحقیقت یہی ——{{لقمہ}} "اردو میں ہر زبان کا لفظ سمو لینے کی صلاحیت ہے” {{بند}}—— والی سوچ ہے کہ جس نے اردو کو ترقی یافتہ زبانوں کی جانب لے جانے والے تمام دروازوں کو ہمیشہ بند رکھا۔ گو اردو میں علوم{{زیر}} دنیا کے موضوعات پر ناکافی (سائنسی) ادب ہونے اور بطور خاص سائنس میں اسلامی دنیا کی پسماندگی کا الزام تجزیہ نگاروں نے مولویوں پر بارہا لگایا ہے کہ ان مولویوں نے اسلامی زبانوں کو سائنس سے دور رکھا ، یہ بات مکمل طور پر درست نہیں بلکہ شائد بالکل درست نہیں ، اسلامی ممالک میں بولی جانے والی زبانوں (خواہ وہ عربی ابجد استعمال کرتی ہوں یا غیر عربی) اور بالخصوص اردو میں دنیاوی علوم پر مستند مواد کی ناقصیت و ناپیدی مولویوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی متعدد وجوہات کے ساتھ ساتھ مذکورہ بالا دقیانوسی سوچ بھی ایک وجہ ہے جس نے ہر زمانے میں سائنسی اصطلاحات کو اردو میں تلاش کرنے سے متعلق ناصرف عدم دلچسپی پیدا کی بلکہ ان اصطلاحات کو رائج العام ہونے سے بھی روکے رکھا۔

==سمونا کیا ہے؟==

اگر اردو میں ہر زبان کا لفظ سمو لینے کی صلاحیت ہے تو پھر اول تو یہ کہ اس میں سواۓ انگریزی کے دیگر زبانوں کے الفاظ کیوں نہیں سموۓ جاتے؟ اگر اردو میں ہر زبان کا لفظ سمو لینے کی صلاحیت ہے تو پھر اس میں کتنے الفاظ جاپانی کے ہیں ؟ کتنے فرانسیسی کے ہیں ؟ اور جو انگریزی کے سوا دیگر زبانوں کے چند ایک الفاظ ہیں بھی (جیسے جاپانی کا [[رکشا]]) تو وہ بھی انگریزی ہی سے سموۓ گۓ ہیں ؛ بلکہ مضحکہ خیز بات یہ کہ انگریزی کا سمجھ کر ہی سموۓ گۓ ہیں۔ اگر اردو دیگر زبانوں کے الفاظ سے ملکر وجود میں آئی تھی تو کیا اسکا مطلب یہ ہے کہ اس سے یہ بہانا تراش لیا جاۓ کہ اردو میں تمام کے تمام الفاظ بس انگریزی سے لے لے کے لکھے جاتے رہیں؟ آج کی بولی جانے والی زبانوں میں سے کون سی زبان دنیا کی ایسی ہے کہ جو اپنے سے قدیم (بسا اوقات ناپید) زبان سے الفاظ نہیں لیتی؟ مگر ان زبانوں کے بولنے والے تو کبھی یہ بہانا نہیں تراشتے کہ ہماری زبان میں ہر لفظ سمو لینے کی صلاحیت ہے! کیوں؟ انتہائی عام مثال ہے ؛ germ کے لیۓ بنا ہوۓ الفاظ جرثوم ، جراثیم حتی{{ا}} کے اس میں عربی قاعدے کے مطابق ہ کے اضافے سے جرثومہ تک بن جانے کے باوجود آج بھی عربی کی لغات میں اسے غیر عربی ہی لکھا جاتا ہے۔

==کیا صرف اردو؟==

یہ دوسری زبانوں کو اپنے اندر سمو لینے والی بات محض اردو زبان کے لیۓ مخصوص نہیں ہے؛ ہر زبان انسانی رابطے کا ایک زریعہ ہوتی ہے اور اس زبان کو استعمال کرنے والے افراد اس میں وہ الفاظ استعمال کر سکتے ہیں کہ جس کے بارے میں ان کو یہ اندازہ ہو کہ وہ مخاطب کی سمجھ میں آجائیں گے۔ کسی بھی زبان میں اس کے قواعد کے دائرہء کار میں رہتے ہوۓ ، کسی دوسری غیرزبان کا کوئی بھی لفظ استعمال کیا جاسکتا ہے؛

* جیسے اردو میں کہا جاۓ کہ : اس نے خود کو اس کام کے لیۓ {{لقمہ}}کمیٹڈ{{بند}} کر لیا ہے۔

* تو ایسے ہی انگریزی میں کہا جاسکتا ہے کہ : {{د2}} He was a prominent{{لقمہ}} mufassir{{بند}} of his time.{{دخ2}}

مذکورہ بالا دونوں مثالوں میں جب تک مُخاطِب اور مُخاطَب سرخ رنگ میں ظاہر کیۓ گۓ بالترتیب اردو اور انگریزی کے لیۓ غیرزبان کے الفاظ سے واقف نہیں ہونگے ان الفاظ کا استعمال نہیں کیا جاۓ گا، یعنی کسی — روزمرہ — گفتگو کی زبان میں وہی الفاظ اختیار کیۓ جاتے ہیں کہ جو رائج ہوں (رائج پر بحث آگے کسی قطعے میں آۓ گی)۔ انگریزی اور اردو کے ان دو چھوٹے سے جملوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اردو میں کوئی ایسی انوکھی خوبی نہیں ہے کہ وہ دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندر سموتی رہے ، ایسا تو ہر زبان میں ممکن ہے گو یہاں محض [[نویسات]] کی [[طرزیاتی]] قیود کے باعث منگولی ، بنگالی اور جاپانی وغیرہ کی مثالیں نہیں لکھی گئیں۔

==سموۓ ہیں یا ٹھونسے گۓ؟==

درحقیقت یہ سمونے والا لفظ ایک دھوکا اور فریب ہے، معاملہ کچھ یوں ہے کہ اردو میں انگریزی کے جو الفاظ روزمرہ گفتگو میں دھڑا دھڑ اور بلا کسی شرم و افسوس کے استعمال کیۓ جاتے ہیں وہ بیچاری اردو نے اپنے اندر سموۓ نہیں ہیں ، وہ تو اس کے اندر زبردستی ٹھونسے گۓ ہیں۔ کیا یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ پندرھویں صدی کے اوائل سے انیسویں صدی کے اواخر تک ہندوستان پر قائم رہنے والی حکومت میں ابتدائی طور پر فارسی اور پھر اردو کے بجاۓ انگریزی زبان استعمال کی جاتی تھی؟ اور کیا یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ اس قدر طویل المعیاد حکومت کسی بھی قسم کی سائنسی سرگرمی سے یکسر نا بلد رہی ہو؟ کیا [[ہندسیات]] ، [[طرزیات]] اور [[ریاضیات]] کے علوم سے لاعلم افراد ہمایوں کا مقبرہ ، فتحپور سیکری اور تاج محل و لال قلعہ جیسی تعمیرات کر سکتے ہیں؟ کیا یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ جدید علوم اور دنیاوی ترقی سے ناآشنا حیدر علی اور پھر ٹیپوسلطان کی افواج ، چین میں دریافت ہونے والے بارود کے استعمال کو نفاست اور ترقی کی انتہا پر لے جاکر اسے کامیابی کے ساتھ بطور [[missile]] استعمال کرسکتی ہو؟<ref>اخبار ہندو پر [http://www.hindu.com/2005/06/23/stories/2005062310360300.htm حیدر علی کا تذکرہ] اور عبدالکلام سے متعلق موقع پر [http://www.bharat-rakshak.com/MISSILES/History.html ٹیپوسلطان کا تذکرہ]۔</ref> یا پھر کیا یہ تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ مذکورہ بالا تمام تر دنیاوی علوم کی ترقی اس زمانے میں فارسی اور اردو میں نہیں بلکہ انگریزی میں ہو رہی تھی؟ یہ تو وہ زمانہ تھا کہ جب انگریزی کے رنگ برنگے الفاظ تو کجا ، خود لفظ —- انگریزی —- بھی ناپید تھا۔

==کہاں بنی اور کہاں بگڑی؟==

عہد مغلیہ کے ابتدائی دور میں عربی اور فارسی کو سرکاری زبان کی حیثیت حاصل رہنے اور پھر درجہ بہ درجہ شاہجہاں کے دور تک اردو کے ایک مسلمہ زبان صورت اختیار کرنے<ref>عہد مغلیہ میں ہندوستانی [http://www.languageinindia.com/oct2001/punjab1.html لسانیات کا ایک بیان]۔</ref> سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اردو کی ابتداء بھی کوئی پندرھویں صدی سے ہی ہوئی ہوگی، لیکن ایسا نہیں ہے آج سے کوئی نو سو سال قبل ، سلطنت دلی سے بھی پہلے ، وسط ایشاء کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے لشکروں میں ایک بین اللسانی رابطے کی زبان وجود پاچکی تھی جس کو [[ریختہ]] بھی کہا جاتا ہے<ref>اردو زبان کے [http://www.bbc.co.uk/languages/other/guide/urdu/history.shtml 900 سال قبل آغاز کا بیان]۔</ref> اس زبان ریختہ میں وسط ایشاء سے تعلق رکھنے والے افراد کی وجہ سے فارسی کا بہت گہرا اثر تھا، اس میں ترکی بھی پائی جاتی تھی اور عربی بھی۔ اور پھر جب ان لشکروں کا ہندوستان پر اثر بڑھتا گیا اور سلطنت دلی کے وجود پاجانے کی وجہ سے ان کی زبان ریختہ ہندوستان کے علاقائی لسانی قواعد سے امتزاج کرتی گئی اور رفتہ رفتہ بارھویں صدی کے آغاز سے اردو کی تشکیل کا آغاز ہوا۔ دنیا کے دوسری جانب کا منظر بطور اندازہ بیان کیا جاۓ تو یہ وہ زمانہ تھا کہ جب اسپین میں امارت غرناطہ اپنی بقا و فنا کی کشمکش سے ابھی دور اور نسبتا{{دوزبر}} پرسکون سی تھی۔ امیر خسرو ([[1253ء]]-[[1325ء]]) کو اس نئی بننے والی زبان کا پہلا شاعر کہا جاتا ہے۔

===عروج===

یہ بات تو بکثرت لکھی جاتی ہے کہ عرب سائنسدانوں (جن میں تمام مادری زبان والے عرب نہیں تھے) نے اعداد اور صفر کا تصور ہندوستان سے لیا اور اسی وجہ سے اعداد کو ہندسہ بھی کہا جاتا ہے لیکن اس بارے میں تحقیق بہت ناکافی ہے کہ طارق بن زیاد کے اسپین میں داخل ہونے کے ساتھ [[711ء]] میں ہی ہندوستان میں داخل ہوکر [[1857ء]] تک موثر رہنے والے ان افراد کی سائنس و [[طرزیاتی]] میدانوں میں سرگرمیاں کیا رہیں کہ جن کا رسم الخط موجودہ اردو کی پیدائش کا موجب بنا۔ لیکن بہرحال ایک بات طے ہے کہ ہڑپہ کے زمانے سے انیسویں صدی تک جو بھی سائنسی ترقی ہوئی اس میں انگریزی زبان کا کوئی کردار نہیں تھا۔ عہد مغلیہ کی بات کی جاۓ تو یہ بات متعدد تاریخی دستاویزات سے ظاہر کہ [[تعمیرات]] (اور اس سے متعلقہ [[ہندسیات]] و [[ریاضیات]])، [[پارچہ بافی]]، [[حرک آب|حرکابی]] ہندسیات ، علم [[طب]] اور [[دوا سازی|ادویہ سازی]] کے شعبۂ جات جامد نہیں تھے بلکہ مغل اپنے ساتھ ہندوستان میں اسلامی دنیا کی طرزیات اور علوم بھی لاۓ تھے؛ مغل بادشاہ [[بہادر شاہ اول]] کے پوتے [[محمد شاہ (روشن اختر)]] کے کہنے پر [[جے سنگھ سوائی]] ([[1688ء]] تا [[1743ء]]) نے دلی میں [[جنترمنتر]] کے نام سے رصدگاہ تعمیر کی<ref>ہندوستان میں سائنسی [http://countrystudies.us/india/101.htm سرگرمیوں کی تاریخ]۔</ref>، جس میں قدیم ہندوستانی اور اسلامی علوم [[فلکیات]] سے استفادہ کیا گیا اور اردو چونکہ شاہجہاں کے زمانے سے سرکاری دستاویزات تک رسائی حاصل کر چکی تھی لہذا اس جنترمنتر کی تمعیر کے دوران درکار روابط میں اردو کا کردار غیر موجود کہنا بھی غیر منطقی بات ہوگی۔ اب اس بات میں کلام نہیں کہ یہ تمام سرگرمیاں اور تحاریک ، انگریزی کی بیساکھیوں کے بغیر جاری تھیں۔

==انگریزی کی بھرمار کا پس منظر ==

عربی کی ایک ضرب المثل یہاں صادق آتی ہے جس کا ترجمہ ہے کہ ‘لوگ اپنے بادشاہوں کے دین پر ہوتے ہیں’۔ اردو کا مسئلہ بھی یہی ہے کہ انگریزوں نے برصغیر پر راج کیا اور اپنا اقتدار برصغیر کو آزاد کرنے کے بعد بھی کسی نہ کسی حد تک قائم رکھا۔ لارڈ میکالے اور دیگر انگریزوں نے اپنی یادداشتوں میں لکھا کہ اگر اس علاقے پر اپنا اقتدار قائم رکھنا ہے تو انہیں ان کی زبان سے محروم کر دو اور ایسے لوگ پیدا کرو جو رنگ و نسل میں تو ہندوستانی ہوں مگر چال ڈھال اور نظریات میں انگریز بننے میں سبقت کی کوشش کرتے رہیں۔

اگر انگریز نہ ہوتے تو اردو کی ترقی اس نہج پر آ چکی تھی کہ برما (رنگون) سے لے کر کابل تک بے شمار لوگ اردو بول اور سمجھ سکتے تھے حالانکہ یہ ان کی مادری زبان نہ تھی۔ اردو ایک انتہائی بڑے علاقے کی مشترک زبان بن رہی تھی جس کی آبادی دنیا کا پانجواں حصہ تھی۔ مگر پہلے تو انگریزوں نے تعلیم کا طریقہ بدلا اور انگریزی کو رائج کیا۔ پھر رسم الخط کا جھگڑا کھڑا کیا جس سے اردو ایسی زبان بن گئی جسے دو مختلف رسوم الخط میں لکھنے روایت پڑی۔ ہندو اکثریت نے اردو کو ہندی کہا اور اس میں عربی اور فارسی کے الفاظ جو بخوبی اردو کا حصہ بن چکے تھے انہیں نکال کر سنسکرت کے الفاظ رائج کئے اور یہ سلسلہ پچھلے ساٹھ سال سے جاری ہے۔ دوسری طرف اردو میں انگریزی الفاظ کی بھرمار شروع ہوئی اور آہستہ آہستہ ایسے الفاظ متروک ہو گئے ہیں جو اردو میں موجود تھے مگر اب ان کی جگہ انگریزی کے الفاظ بولنا فخر سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً مختلف ممالک کے نام لوگ وہ لینا پسند کرتے ہیں جو انگریزی میں رائج ہوں چاہے اس ملک کے لوگ کچھ اور کہتے ہوں۔ مثال کے طور پر ‘اطالیہ’ کا لفظ اردو میں رائج تھا اور خود اطالیہ کے لوگ اپنے ملک کو ایسے ہی پکارتے ہیں مگر احباب اسے اٹلی کہنے پر اصرار کرتے ہیں۔ اس قسم کی مثالیں ممالک کے ناموں تک محدود نہیں بلکہ بے شمار ہیں۔

===انگریزوں کے اقدامات===

1900ء میں انگریزوں نے بغیر کسی طلب کے اردو اور ہندی کو برابر کی زبانیں قرار دیا جس کا مقصد تھا کہ ایک ہی زبان کو دو رسوم الخط کی بنیاد پر دو زبانیں قرار دیا جائے۔ اس کے بعد اردو اور ہندی جو بنیادی طور پر ایک ہی زبان تھی ایک دوری پیدا ہونا شروع ہو گئی۔انگریزوں نے اس خیال کو ترقی دی کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے اور ہندی ہندو لوگوں کی۔ اس سے غیر مسلموں میں اردو سے ایک نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس نے مسلمانوں اور ہندو اقوام کے درمیان لسانی فسادات کو جنم دیا۔<ref>Religious Controversy in British India by

[http://books.google.com/books?id=EmY9fsUTjwYC&pg=PA123&dq=hindi+urdu+controversy#PPA124,M1 Kenneth W. Jones, p124, ISBN 0791408272] Google book</ref>

برصغیر کی تقسیم کے بعد 1950ء میں بھارت کے آئین کے تحت دیوناگری رسم الخط رکھنے والی ہندی زبان کو بھارت کی سرکاری زبان قرار دیا گیا۔

== موجودہ دور کی انگریزی زدگی ==

موجودہ دور کی انگریز زدگی کی واضح مثال خود اخبارات و جرائد ہیں جہاں ایسی اردو استعمال کی جاتی ہے جس میں ایسے انگریزی الفاظ موجود ہوں جن کے اردو متبادل اردو الفاظ نہ صرف موجود ہیں بلکہ ماضی میں بخوبی استعمال ہوتے رہے ہیں۔ یہ کام نام نہاد اردو کے اخبارات و جرائد کر رہے ہیں۔ یہاں کچھ ایسی مثالیں درج کی جارہی ہیں جس میں اردو لفظ اور اس کے ساتھ آج کل استعمال ہونے والے الفاظ دیے گئے ہیں۔ اردو لفظ (اردو لفظ کی جگہ استعمال ہونے والا لفظ): انگریزی (انگلش)، نشست (سیٹ)، اطالیہ (اٹلی)، مزاح (کامیڈی)،سمندر پار (اوورسیز)،بین المدتی (مڈ ٹرم)، مجلس یا پارلیمان (پارلیمنٹ)،کھیل (گیمز) ۔ ۔

دوسری مثال پاکستان میں، جہاں کی 90 فی صد آبادی اردو سمجھتی ہے، تمام سرکاری سطح پر انگریزی یا انگریزی زدہ اردو کا استعمال ہے۔ پارلیمان میں تمام حلف انگریزی زبان میں اٹھائے جاتے ہیں، تمام سرکاری بیانات انگریزی میں دیے جاتے ہیں، تمام عدالتی فیصلے انگریزی میں لکھے جاتے ہیں، مقابلے کے امتحانات میں انگریزی لازمی ہے مگر اردو نہیں۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں۔ بھارت میں اخبارات و دور درشن وغیرہ پر اردو اور ہندی دونوں میں ایسی زبان استعمال ہوتی ہے جو عام بھارتی افراد نہیں بولتے۔ اس میں سنسکرت کی بھرمار ہوتی ہے جبکہ عام لوگ جو زبان آج بھی بول رہے اس میں سنسکرت کی اتنی بھرمار نہیں۔

==وہ بد حواسی ہے کہ ۔۔۔ ==

یہ بات ہر اس شخص پر عیاں ہو جاۓ گی جو اردو میں استعمال کیۓ جانے والے الفاظ کی اصل الکلمہ کا متلاشی ہوگا کہ اردو کا گھر عربی ہی ہے۔ ان الفاظ کی اکثریت بھی کہ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فارسی ہیں ، اصل میں عربی سے ہی فارسی میں آۓ ہیں اور یوں عربی ہی ہیں۔ وہ زمانہ تھا کہ جب مسلمانوں میں کتابوں سے محبت کا جذبہ سویا نہیں تھا اور مسلمان مختلف موضوعات پر کتابیں تخلیق کر رہے تھے اور ان میں تمام لکھنے والے عرب نا ہونے کے باوجود تمام کتب کی زبان عربی ہی ہوا کرتی تھی۔ عربی میں کوئی خاص بات نہیں ، وہ بھی بس ایک انسانی رابطے کا زریعہ ہی ہے ، جیسے اردو اور فارسی یا انگریزی؛ مگر اس کے باوجود یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ عربی میں علمی (سائنسی) اصطلاحات پیدا کرنے کی صلاحیت اردو اور فارسی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ سائنس میں انتہائی ضروری بات ، اصطلاحات کا زندہ ہونا ہے۔ اگر اصطلاحات کے بجاۓ عبارات (یعنی پورے پورے جملے) لکھے جائیں گے تو سائنسی موضوعات پر کچھ لکھنا نا صرف ناممکن ہوگا بلکہ نوبت یہاں تک آۓ گی کہ ترجمہ اور ہو بہو انگریزی سائنسی مضامین کی نقل تک نا ممکن ہو جاۓ گی۔ فارسی میں ایک رجحان پیدا ہوا ، فارسی کو خالص بنانے کا ، باالفاظ دیگر فارسی کو عربی سے پاک کرنے کا۔ اور نتیجہ یہ ہے کہ آج فارسی میں سائنسی مضامین لکھنا دشوار ترین ہو چکا ہے۔

<p align=”center”>کدھر کو جائیں گے اہلِ سفر نہیں معلوم <br>وہ بد حواسی ہے اپنا ہی گھر نہیں معلوم </p>

اردو والوں کو فارسی سے لگے رہنے کا نقصان یہ اٹھانا پڑا کہ ایک طرف تو یہ کہ بدحالی کی جانب گامزن فارسی سے جدید اصطلاحات کے الفاظ نہیں مل سکے اور دوسری جانب وہ انگریزی میں سیلاب کی طرح بہی چلی آنے والی اصطلاحات کا متبادل تلاش کرنے کے لیۓ عربی کی جانب متوجہ ہونے سے بھی ہچکچاتے رہے یعنی اس اصطلاحات کا بروقت متبادل دستیاب نا ہونے کی صورتحال نے اردو دانوں کی اکثریت (تمام نہیں) میں ایک ایسی بدحواسی پیدا کردی کہ وہ اس انگریزی میں برستے ہوۓ سائنسی اصطلاحاتی اولوں سے اپنا سر چھپانے کے لیۓ اپنے گھر کی چھت کے نیچے بھی نا آسکے ، خود اردو کو بدحواسی کے عالم میں اپنے گھر کی جانب بھی جانے کا موقع نا دے سکے۔

==فارسی پاک کرو!==

عرصۂ دراز تک عربی سے مستفید ہونے کے بعد ، عرصۂ دراز تک مادری زبان فارسی رکھنے والے [[مسلم سائنسدانوں]] کے اپنی شہرۂ آفاق تصانیف عربی میں لکھتے رہنے کے بعد باآخر نفرت کی دیواریں [[لسانیات]] میں بھی کھڑی کی جانے لگیں۔ فارسی کو عربی سے پاک کرنے کا رجحان انیسویں صدی کے اواخر سے دکھائی دیا جانے لگا اور آج اس کو پرانی فارسی کی کتب اور پھر موجودہ فارسی کتب کو پڑھنے والے باآسانی محسوس کر لیتے ہیں۔ فارسی سے عربی الفاظ کو نکالنے کے سلسلے میں [[ایران]] کے [[جنوب]] میں واقع قدیم شہر [[جنداق]] سے تعلق رکھنے ابوالحسن یغمۂ جنداقی کا نام ابتداء کرنے والوں میں شامل کیا جاسکتا ہے، جنداقی نے اپنی کتاب کلیاتِ یغمۂ جنداقی<ref>Abu al-Hasan Yaghma Jandaqi, Kulliyat-i Yaghma Jandaqi (Tihran: Ibn Sina), p. 49; Aryanpur, Az Saba ta Nima, p. 114</ref> فارسی کو عربی سے پاک کرنے کی اس روش یا طرز عمل کو "تازہ روشِ نو دیدار” کا نام دیا۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس روش نے نا صرف یہ کہ فارسی کو عربی کی بلاغت سے محروم کرنا شروع کر دیا بلکہ اسلام سے قریب الفاظ (یہاں مذہبی تفریق سے مقصود نہیں بلکہ صرف اس حقیقت کا بیان ہے کہ عربی الفاظ اسلام سے قریب ہی تصور کیۓ جاتے ہیں) سے بھی فارسی کو محروم کرنا شروع کر دیا ، اسلامی عربی ناموں کی جگہ پہاڑوں اور غاروں میں سے ڈھونڈ دھونڈ کر قبل از اسلام کی اصطلاحات بھری جانے لگیں اور اس تمام صورتحال نے فارسی کو سائنس کے میدان میں مفلوج کر ڈالا کیونکہ ایک تو اس سے وہ صدیوں کی آزمودہ اصطلاحات غائب ہونا شروع ہو گئیں جو کہ مسلم سائنسدان ؛ مسلم اندلس اور اور بعداد کے مدینۃ الحکمت میں عربی اور فارسی کو عطا کر چکے تھے اور امت سے ہم آہنگی کا ایک رشتہ بھی کمزور ہوگیا<ref>The Constitutionalist Language And Imaginary. [http://iranianstudies.ca/Const_Revolution/background.html Mohamad Tavakoli]</ref>۔ آج کی فارسی وہ فارسی نہیں ہے کہ جس میں [[اقبال]] نے شاعری کی تھی

<p align=”center”>

عـلم از سـامانِ حفظِ زندگی است<br>علم از اسبابِ تقویمِ خودی است

</p>

مندرجہ بالا اقبال کا فارسی شعر پڑھنے کے بعد یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے اصل فارسی پر عربی کا کس قدر گہرا اثر ہے اور اس میں کس کثرت سے عربی اصطلاحات و الفاظ استعمال ہوتے ہیں؛ مذکورہ بالا —– فارسی شعر —– میں کل 12 الفاظ ہیں جن میں سے 5 (علم ، حفظ ، اسباب ، تقویم اور خودی) عربی ہیں۔ یہ تو صرف ایک عام فہم شعر کی مثال ہے اگر دیگر قدیم کتب کا مطالعہ کیا جاۓ (مسلم سائنسدانوں کی کتب کی تو خیر بات ہی الگ ہے کہ وہ تو مکمل عربی ہی میں ہیں) تو وہ اس شعر کی نسبت بہت زیادہ عربی الفاظ سے بھری ہوتی ہیں۔

==اردو کا خسارہ==

غضب یہ نہیں ہوا کہ فارسی سے عربی الفاظ نکالنے سے صرف فارسی ہی علمی اصطلاحات سے محروم ہوتی گئی بلکہ غضب یہ ہوا کہ اس خطے میں بسنے والے تمام افراد جدید علوم کو اپنے اندر سمولینے کے بجائے اس سے ذہنی طور پر مغلوب ہوتے چلے گئے؛ یہ ذہنی مغلوبی براہ راست سائنس یا جدید علوم الدنیا سے تو ہوئی ، ساتھ ہی ساتھ اس زبان سے بھی ہوئی کہ جس میں یہ سائنسی اور جدید علوم کی اصطلاحات آنا شروع ہوئیں۔ جدید علوم الدنیا کو اردو میں سمونے کے بجائے اردو میں انگریزی سموئی جانے لگی۔ برصغیر میں مسلمانوں کی آمد سے لے کر مغلیہ دور کے اواخر تک یہاں فارسی ہی کا سکہ چلتا رہا اور ہندوؤں نے بھی فارسی کو بخوشی و بخوبی اپنایا کیونکہ یہ ناصرف تمام اداروں اور دفاتر میں لازم تھی بلکہ اس کا سیکھنا تہذیب یافتہ اور تعلیمیافتہ ہونا تصور کیا جاتا تھا ، بالکل ایسے ہی کہ جسے آج کسی انگریزی نا سمجھنے والے کو انگریزی سمجھنے والے کی نسبت جاہل سمجھا جاتا ہے۔ فارسی کے یوں اھم ترین زبان کا رتبہ رکھنے والے دور میں بھی عربی کی علمی حیثیت اپنی جگہ برقرار تھی اور عربی زبان کی تحصیل کے بغیر اعل{{ا}}ی تعلیمی اسناد کا حاصل ہونا ممکن نہیں تھا۔

===اردو نوازی===

بہرحال یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ انگریز قوم جب یہاں آئی تو اس کے سامنے سب سے اھم ہدف یہ تھا کہ یہاں عرصے سے حکومت کرتی چلی آنے والی قوم کو ذہنی طور پر کمزور اور ناتواں کیا جائے اور اس سلسلے میں سب سے اھم کردار علوم الدنیا سے ہم آہنگ نا رہ سکنا کرتا ہے یعنی نفسیاتی طور پر جب کوئی قوم (یا فرد) علوم الدنیا (یا اپنے ماحول میں آنے والی تبدیلیوں) سے ہم آہنگ نا رہ سکے تو وہ قوم ذہنی طور پر ناتواں اور مغلوب ہوجایا کرتی ہے۔ [[قرون وسطٰی]] (middle ages) ہی نہیں بلکہ ساتویں صدی سے تیرھویں نہیں تو بارھویں صدی تک عربی زبان دنیا میں جدت کی علامت رہی؛ جو کام آج اس ویکیپیڈیا پر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس کام کو [[1492ء]] کے بعد سے تمام یورپی کرنے میں جنون کی حد تک ملوث تھے اور عربی سائنسی مواد کے تراجم لاطینی و دیگر زبانوں میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر کئے جارہے تھے۔ گیارھویں اور تیرھویں صدی کے زمانے میں [[انگلستان]] میں عربی زبان سیکھنے کا رجحان زوروں پر تھا<ref>Is Arabic the language of science and modernity?

[http://www.amnation.com/vfr/archives/011654.html روئے خط مضمون]</ref> اور برصغیر میں بہروپیوں کی شکل میں وارد ہونے والی اور عربی سے نفسیاتی طور پر خوفزدہ اسی انگلستانی قوم سے زیادہ اس بات کو اور کون بہتر جان سکتا تھا کہ جب تک عربی اصطلاحات کا پتہ صاف نا کیا جائے گا اس برصغیر کی قوم میں یہ احساس پیدا ہی نہیں کیا جاسکتا کہ یہ جدید علوم کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی ؛ یہاں بات مذہب پر لانا مقصود نہیں لیکن یہ کہنا ضروری ہے کہ انگریز کو ہندی یا مغلیہ دور کی ديگر زبانوں سے پریشانی نہیں تھی کیونکہ ان میں بغداد اور اندلس جیسے کتب خانوں کی طرح علمی اور سائنسی اصطلاحات موجود نہیں تھیں اور ان زبانوں کو جب چاہے انگریزی سے بھرا جاسکتا تھا (ہندی جاننے والے آج بھی اس حقیقت کو باآسانی ہندی ویکیپیڈیا پر ملاحظہ کرسکتے ہیں)۔ پس انگریز نے علمی اصطلاحات کے ذخائر سے اس نو محکوم قوم کو محروم کرنے کی خاطر فارسی کی جگہ اردو کو ترجیح دینا شروع کی، مقصد اس کا ایک ہی تھا کہ فارسی کی موجودگی میں عربی سے تعلق نہیں توڑا جاسکتا تھا لہ{{ا}}ذا اردو کو لاڈ پیار دیا جانے لگا۔

===ڈنڈے نہیں سوٹی سے مارو!===

مغلیہ دور کے اواخر سے اردو زبان درباروں میں جگہ پانے لگی تھی اور اس کی ایک اھم وجہ یہ تھی کہ اس زمانے کے شعراء اور ادباء نے اس میں نئی اور پرمغز اصطلاحات کا عربی اور فارسی امتزاج ڈالنا شروع کردیا تھا اب اردو بالغ ہوچکی تھی اور اس میں ناصرف مقامی زبانوں کے میٹھے الفاظ تھے بلکہ علمی عربی و فارسی روایات بھی تھیں۔ اسی وجہ سے ہندو اور مسلمان سمیت تمام قوم اس سے کسی نا کسی قسم کا تعلق محسوس کرتی تھی<ref name=abdulhaq>قواعد اردو ؛ مولوی عبد الحق : الناظر پریس واقع خیالی گنج لکھنؤ۔</ref> اور اس کی یہی وہ کیفیت تھی کہ جس سے فائدہ اٹھا کر انگریز نے فارسی اور عربی کا خاتمہ کر کہ اس قوم کو جدید علوم سے ہم آہنگ ہونے سے محروم رکھا ، انگریز کے پاس اس کے سوا چارہ ہی نہیں تھا کہ اردو کو اہمیت دے ، اب اردو اسے ایک ایسی سوٹی نظر آرہی تھی کہ جس سے مارا بھی جاسکے اور مار کھانے والا مرے بغیر مار بھی کھاتا رہے۔ انگریز کو بخوبی اندازہ تھا کہ فارسی اور عربی سے جدا کر دیا جائے تو اس قوم کے پاس ہندی کے سوا کچھ نا بچے گا خواہ اس کو عربی حروف استعمال کر کہ اردو کا نام دیا جاتا رہے یا کوئی اور<ref name=hit>Hit it with a stick and it won’t die by Christopher Lee; Syracuse university [http://www.urdustudies.com/pdf/15/20StuLeec.pdf روئے خط مضمون]</ref>۔ ایک بار عربی سے جان چھڑا لی جائے تو بعد میں صرف یہ کرنا ہوگا کہ ہندوؤں کو عربی رسم الخط سے بیزار کیا جائے اور بس! کام ختم! ایسا ہونے کے بعد اس قوم کے ہاتھ رہے گا کیا؟ اس کے پاس سوائے انگریزی سے چمٹ جانے کے اور انگریزی زبان کا ذہنی غلام بن جانے کے سوا کوئی راستہ ہی نہیں بچے گا۔ بابائے اردو کہلائے جانے والے [[مولوی عبدالحق]] نے اس مکار اور عیار حمکت عملی اور اس قوم سے دشمنی کو انگریز کے احسان کا نام دیا ہے؛ سبحان اللہ!<ref name=abdulhaq/>۔

===وکالت یا مخالفت===

قطعہ اردو کا خسارہ ، بظاہر ایسا احساس اجاگر کرتا ہے کہ یہاں اردو کی مخالفت کی جارہی ہے۔ ایسا نہیں ہے؛ یہ قطعہ اس زبان کی بات کر رہا ہے کہ جس سے اس کی روح چھین لی گئی ہو، جس سے بے پناہ علمی الفاظ کا ذخیرہ چھین لیا گیا ہو<ref name=abdulhaq/> جس سے اس کی شناخت چھین کر صرف نام برقرار رکھا گیا ہو۔ یہ قطعہ اردو کی مخالفت میں نہیں بلکہ اس دھوکے کی مخالفت میں ہے کہ جو اردو کے نام پر جاری رکھا گیا، اردو سے عربی اور فارسی کے الفاظ نکال دیئے جائیں تو باقی جو رہ جاتا ہے وہ ہندوی ہو سکتی ہے ہندوستانی ہو سکتی ہے یا صاف الفاظ میں ہندی ہوسکتی ہے اردو ہرگز نہیں<ref name=hit/>۔ اور جب اس مستقبلیاتی بصیرت سے کام لیتے ہوئے (جسے اردو دان دانستہ یا نا دانستہ نظر انداز کرتے رہے یا اس زمانے کے مسائل سے بھرپور حالات میں سمجھ نا سکے) انگریز نے اردو کی پشت سے عربی و فارسی کا سہارا الگ کردیا تو عربی کی اصطلاح سازی کی خداداد صلاحیت سے محروم ہوجانے والی اس ہندوستانی (کہ جس کو عربی رسم الخط میں عرصے تک لکھ کر اردو کہا جاتا رہا) کے پاس نئی اصطلاحات کے لئے انگریزی کے سامنے دست دراز کرنے کے سواء کوئی چارہ باقی نا رہا۔

==برصغیری مسئلہ==

اس قطعے کا عنوان مسلم قوم کا مسئلہ بھی رکھا جاسکتا تھا لیکن چونکہ احاطہ مقصود ہے ان تمام اقوام کا جو کہ سائنس میں یوں چکر پھیری کھا رہی ہیں کہ جیسے لٹو۔ عرصے تک محکومی و لاچاری اور اقتصادی بدحالی نے ان کا وہ حال کیا ہے کہ ان کی سمجھ میں ہی نہیں آرہا کہ سائنس کو کس طرح اپنایا جائے؟ ایک بات طے ہے کہ آپ اردو میں لاکھ لکھ لیں ، کامیابی نہیں ہوگی اگر اس میں شامل تمام الفاظ اس برصغیری قوم کے لیۓ قابل قبول نا ہوئے کہ جو عربی رسم الخط سمجھ سکتی ہے (پنجابی ، بشتو ، سندھی اور بنگالی و حیدر آبادی وغیرہ وغیرہ)۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اردو میں تمام علمی مواد بھر دیا جائے اور پھر اس کے بعد پنجابی اپنی الگ اصطلاح سازی کرے ، بلوچی اپنی الگ اصطلاح سازی کرے ؟ اور کیا ایک ہی علاقے کے لوگوں کے اس قسم سے اصطلاحاتی ٹکڑوں میں منتشر ہونے کے بعد آپس کی سائنسی تحقیق میں کوئی مشترکہ کاوش ممکن ہوگی ؟ کیا اس سے قسم کی اردو محبت سے خود اردو کو کوئی فائدہ ہوگا جو دیگر علاقائی زبانوں کے لیۓ کوئی رہنمائی نا کرسکتی ہو؟ کیا صرف اردو بولنے والوں کی ترقی تک محدود رہنے والی اردو سے پورے علاقے میں یہ زبان رابطے کی زبان کا درجہ پاسکتی ہے؟

===سائنسی تحقیق میں اشتراک و یکسانیت===

ہندی میں آج جو مسائل ہیں ان میں سب سے بڑا مسئلہ ان کو یہ درپیش ہے کہ تقسیم ہند کے موقع پر ہندی کو ایک بہت ہی بڑی زبان کے طور پر دکھانے کی جو فریب النظری دی گئی وہ آج نا صرف ہندی زبان کی ترقی بلکہ ان تمام اقوام کو سائنسی اصطلاحات پر متفق ہونے کے قابل نا کرسکنے کی وجہ سے کہ جن کی الگ الگ زبانوں کو تقسیم ہند پر پر فریب انداز میں ( زبردستی ملا کر ) ہندی کا نام دے دیا گیا تھا ، ان کی سائنسی ترقی میں بھی رکاوٹ بن رہی ہے اور ان کو انگریزی کے سوا کوئی راستہ نہیں سوجھ رہا۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ جو مشترکہ عربی رسم الخط (یا الگ رسم الخط مگر عربی الفاظ) استمعال کرتے ہیں ؛ جیسے سندھی ، پنجابی ، فارسی ، پشتو ، اردو ، بلوچی ، عربی اور بنگالی وغیرہ۔ اگر ان سب میں الگ الگ سائنسی اصطلاحات بنائی جانے لگیں تو وہ حال ہوگا کہ دماغ کی دہی بن جائے! نا وہ سائنسی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے آپس میں رابطہ کر سکیں گے اور نا ہی سندھ کے علاقے میں کیا جانے والا کوئی سائنسی تحقیقی کام پنجاب کے علاقے والوں کے کسی کام کا ہوگا ، نا اردو والے کی تحقیق سے بلوچی استفادہ کرسکے گا نا پنجاب کی تحقیق سے پشتو والا کوئی استفادہ اٹھا سکے گا۔ کیا اس قسم کی محدود (ایک ہی ملک کے مختلف علاقوں میں رنگ برنگی اور ایک دوسرے سے الگ الگ) اصطلاح سازی کا واقعی کوئی فائدہ ہوگا ؟ یہ تمام کام تو ان علاقے والوں کی محنت کو کوئی مشترکہ سمت دینے کے بجائے ان کے مابین علمی اور تحقیقی روابط کو توڑنے کا باعث بنے گا۔

===کیا یہ اردو سے نفرت ہے؟===

اگر اصطلاحات سازی کا کام کرنا ہی ہے اور علمی مواد کو برصغیر کے ان تمام افراد تک پہنچانا ہی ہے کہ جو عربی رسم الخط پڑھ سکتے ہیں تو کیوں نا ایسی صورت میں پہنچایا جائے کہ جس کو وہ بعد میں یکسانیت کے ساتھ اپنی اپنی علاقائی زبانوں میں بخوشی منتقل کرنے پر متفق ہوں؟ اس میں کیا برائی ہے؟ کیا اردو میں پیش کیئے جانے والے اس کام کو اس طرح پیش کرنے کی منصوبہ بندی کرنا کہ یہ کام اردو میں ہی نا ٹھر جائے بلکہ پورے علاقے کی چھوٹی چھوٹی زبانوں میں یہ ترقی اور تحقیق کی لہر شروع کر سکے ، اردو سے نفرت کے زمرے میں آئے گا ؟ سائنسی ترقی جس زبان میں بھی ہوئی ہے وہاں یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ ان معاشروں کو رنگ برنگے زبانوں والے معاشرے سے واسطہ نہیں رہا اور ان میں لسانی یکسانیت موجود تھی جیسے جاپانی ، انگریزی ، جرمنی وغیرہ (واضح رہے کہ اس جملے سے مراد اسی زبان میں سائنسی اصطلاحات سے ہے)۔ یہاں تو ہندی کی چھتری کے نیچے رہنے والے آپس میں عام لہجوں پر ہی متفق نہیں ہو پاتے ، یہاں تو ایک عربی رسم الخط استعمال کرنے والے آپس میں ایسے الفاظ پر بھی متفق نہیں ہوتے جن پر اتفاق کیا جاسکتا ہے۔ کیا ویکیپیڈیا پر سائنسی مواد کو اردو میں لکھنے کے ساتھ ساتھ ایسی منصوبہ بندی کا خیال رکھنا کہ یہ مواد علاقے کی دیگر زبانیں بھی بلا تعصب قبول کر لیں ، اردو سے محبت نا کرنے کے مترادف ٹھہرایا جائے گا ؟ یہ تو اردو سے حقیقی محبت کے مترادف ہے کہ جس کے ذریعے اردو سے دیگر علاقائی زبانوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

===مستقبلیات اور حیثیت میں اضافہ===

کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ اردو ویکیپیڈیا پر اس قدر محنت کر کہ علمی مواد پیش ہی کیا جائے تو ایسے پیش کیا جائے کہ اس چراغ سے چراغ جلتے جائیں اور اس قسم کا رجحان علاقائی زبانوں میں بھی پیدا ہو جائے؟ تو کیا اس کے لئے عربی رسم الخط استعمال کرنے والی زبانوں کے لئے اصطلاحات کے انتخاب کی خاطر عربی کا استعمال ممکنہ حد تک یکساں قبولیت کا زیادہ امکان نہیں رکھتا ؟ کیا ایسا کرنا اردو سے محبت نا کرنے کے مترادف ہے ؟ اگر اتنے بڑے علاقے کے افراد کم از کم اصطلاحات کو ہی مشترکہ طور پر اختیار لیں گے تو اس سے مستقبل میں تحقیق کے اجتماعی فوائد آنے کا امکان زیادہ نہیں ؟ کیا اس طرح اردو سے بہت زیادہ ترقی یافتہ عرب زبان اور اقوام کی ترقی سے براہ راست فائدہ اٹھاتے رہنے کا امکان زیادہ نہیں ہوگا ؟ جب ہر اردو لغت عربی کے الفاظ سے بھری ہوئی ہے تو پھر ہر عربی لغت سے کوئی بھی لفظ اردو میں لکھا جاسکتا ہے اور اسے اردو ہی کہا جائے گا۔ اور جب اس قدر محنت سے اردو میں ہی علم پیش کرنا ہو تو پھر اسے ایسے پیش کیا جانا بہتر نہیں کہ اس کا فائدہ صرف اردو تک محدود نا رہے بلکہ اردو کے انداز میں لکھی جانے والی ہر علاقائی زبان اس کو ایک غیرجانبدار اصطلاح کی حیثیت سے اختیار کرنے پر رضامند ہو ، یا کم از کم ایسا ہونے کا امکان زیادہ ہو۔ کیا یہ اردو کی جانب سے دوسری زبانوں کے لیۓ خدمت نہیں ہوگی ؟ کیا اس سے اردو کی حیثیت میں اضافہ نہیں ہوگا ؟ کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوگا کہ اردو میں تمام لسانی طبقات کو ترقی اور تحقیق کے لئے مشترکہ سائنسی رابطہ فراھم کرنے کی صلاحیت ہے۔

==تحقیق نو کا رونا==

ایک رجحان اس ویکیپیڈیا پر ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ جسے ہر کوئی اسی سوٹی کی مانند استعمال کرتا ہے کہ جیسے انگریز نے حاکم قوم سے حکومت چھیننے کے بعد اسی کی زبان اردو کی سوٹی سے اس کو مارا اور مار مار کر تتر بتر کیا اور یوں تتر بتر کیا کہ تتر بتر ہونے والے جھک جھک کر آج بھی تتر بتر کرنے والوں کو سلام کرتے ہیں۔ ان کے بڑے بڑے دانشور اور اردو دان انگریز کے اس منصوبے کو انگریز کا احسان قرار دیتے ہیں اور [[فورٹ ولیم کالج]] کی عمارت کے بوجھ سے آج بھی ان اردو دانوں کی ہڈیاں چرخ چوں کرتی رہتی ہیں۔ یہ فورٹ ولیم کالج ہی کا عظیم کارنامہ تھا کہ جس نے ہزاروں سال سے ساتھ چلی آنے والی قوموں میں (صدیوں قبل ناپید ہوجانے والی سنسکرت کو دوبارہ تخلیق کر کہ) سنسکرت اور عربی رسم الخط کا نفاق پیدا کیا اور وہ کیفیت پیدا کی کہ فارسی اور عربی سے متقطع ہونے کا مسلمانوں کو احساس تک نا ہونے دیا <ref>The Jewish conspiracy is British Imperialism by Henry Makow PhD [http://www.rense.com/general53/brith.htm روئے خط مضمون]</ref> <ref>پاکستان کے ایک انگریزی اخبار ڈان میں [http://www.dawn.com/2008/04/29/fea.htm ایک مضمون روئے خط]</ref>۔ بالکل ایسے ہی یہ معترضین{{زیر}} تحقیق{{زیر}} نو بھی کچھ ایسی ہی کیفیت پیدا کر رہے ہیں کہ تخلیقی کاموں میں رکاوٹ کے لئے ہر جگہ ناجائز طور پر اس حربے کو استعمال کرتے ہیں۔ ویکیپیڈیا کے بارے میں اس تحقیق نو کے ابہام کے سوا ایک اور ابہام یہ بھی دور ہونا چاہیۓ کہ ویکیپیڈیا کا مقصد اس زبان میں لکھنا ہے کہ جس زبان میں وہ ویکیپیڈیا ہو اور اگر اس زبان میں [[ثنائیِ لسان|ثنائیِ لسان (diglossia)]] کی کیفیت پائی جاتی ہو تو پھر کیا کیا جائے گا ؟ پھر تو منطقی بات ہے کہ اس انداز کو چنا جائے گا جو کہ کتب اور لغات میں دستیاب ہے نا کہ اس diglossia کے اس انداز کو چن لیا جائے کہ جو شرح خواندگی میں کمی کے سبب اور غیرتعلیمیافتہ افراد کی کثرت کے سبب ، زیادہ افراد استعمال کرتے ہوں۔ تحقیق نو کے بارے میں چند محفوظات کا خیال یہاں متعدد صفحات پر دیگر منتظمین بھی کر چکے ہیں (ایک مثال اسی صفحے کے تبادلۂ خیال پر دیکھی جاسکتی ہے)۔

* تحقیق نو سے مراد اصل میں کوئی خود تحقیقی بیان یا نظریہ پیش کرنے کے ہوتے ہیں

* تحقیق نو ، لغات سے نئے الفاظ لکھنے کو نہیں کہا جاسکتا کیونکہ کسی بھی تحریر میں ضرورت پڑے تو ظاہر ہے کہ نئے الفاظ لغات سے ہی لیۓ جائیں گے

* اگر کسی بیان یا نظریے کا حوالہ درج ہے تو وہ بات خواہ کسی بھی لب و لہجے میں لکھی گئی ہو تحقیق نو کے زمرے میں نہیں آسکتی (جیسے یہ صفحہ)

* اردو کی ہر لغت عربی اور فارسی الفاظ سے بھری ہوئی ہے اور وہ تمام الفاظ درج کرنا تحقیق نو کے زمرے میں نہیں آتا

ہر عربی اور فارسی لغت کا کوئی بھی لفظ درج کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ اس کی وضاحت اور اس کا ماخذ بھی بیان کر دیا گیا ہو اور اسے اردو لفظ ہی کہا جائے گا نا کہ تحقیق نو کہا جائے

==ادبی اردو اور سائنسی اردو==

موجودہ دور کی انگریزی بھرماری کا ایک نتیجہ منطقی طور پر یہ نکلا کہ اردو کی روح قبض کر کے بولی جانے والی اردو کو ، رائج زبان ، تاریخ سے پیدا ہونے والی زبان ، فطری زبان اور آسان زبان جیسے الفاظ سے یاد کیا جانے لگا جبکہ اردو کی روح سے آشنا اور عربی و فارسی پر عبور رکھنے والے افراد کی تحریروں کو ادب کے خانے میں ڈال کر ان کی اردو پر ‘ ادبی اردو ‘ کی مہر ثبت کردی گئی۔ جب بات یہاں تک پہنچ گئی تو پھر اس بات کا ایک اور منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ انگریزی سے پاک اور اصل اردو کو محض ادب و شاعری کے لیئے اختیار کی جانے والی زبان سمجھا جانے لگا کیونکہ اس کو مکمل سمجھنے کی خاطر لغات کا سہارا لازم ہوتا ہے اور لغات دیکھنے کو ادب و شاعری سمجھنے کے لیئے ضروری سمجھا جانے لگا ؛ حالانکہ فی الحقیقت وہ لغات ادب و شاعری کو سمجھنے کی خاطر نہیں بلکہ خود اردو کو سمجھنے کی خاطر دیکھی جاتی ہیں؛ لیکن چونکہ ذہن میں یہ بات ایک عمومی و لاشعوری خیال کی طرح پیوست ہوچکی ہے کہ اردو شاعری و ادب کو پڑھنا ہو تو لغات کو دیکھنا لازم ہوگا اور اس طرح یہاں لغات دیکھنے کو ‘ مشکل اردو ‘ کہہ کر اس سے اجتناب پر زور یا اس پر اعتراض نہیں کیا جاتا۔

===جدائی کا ایک اور سبب!===

یہی اردو بولنے والوں کی سائنس سے جدائی کا ایک اور سبب ہے! یہی اردو بولنے والوں کی اعلٰی تعلیم سے جدائی کا ایک اور سبب ہے! کہ جب اصل اردو کو الگ زبان کی حیثیت سے سمجھ کر محض شاعری اور ادب تک محدود کر دیا گیا اور عام یا رائج اردو کو فطری زبان یا آسان زبان کہہ کہ اس ہی میں دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کی جانے لگی تو وہ خطرناک کیفیت جو اوپر [[اردو غیر اردو#تحقیق نو کا رونا|تحقیق نو کا رونا]] نامی قطعے میں [[ثنائیِ لسان]] کے نام سے بیان ہوئی ہے وہ خود بخود پیدا ہوتی چلی گئی۔ اردو اور جدید دنیاوی تعلیم کی جدائی کا یہی ایک اور سبب ہے کیونکہ جیسا بیان ہوا کہ ادب و شاعری کی خاطر لغات کی محتاجی پر کوئی اعتراض نہیں رہا لیکن جب اسی قسم کی اصل اردو کو عام دنیاوی علوم کی خاطر اختیار کیا گیا تو لغات کی محتاجی پر ایک چیخ پکار شروع ہو گئی اور اس زبان کو مشکل اردو کہہ کر رد کیا جانے لگا۔ یہ سب کچھ برسوں کی معاشی بدحالی اور تعلیمی پسماندگی کا نتیجہ ہے اور یوں خود اپنی کم علمی کو ‘ مشکل اردو ‘ کا بہانا تراش کر اصل اردو کے سر باندھا جانے لگا اور یہاں سے ایک مضحکہ خیز پہلو یہ سامنے آتا ہے کہ خود [[ثنائیِ لسان]] کو پیدا کرنے والے، ثنائیِ لسان کو ختم کرنے کی کوشش کرنے والوں پر ثنائیِ لسان پیدا کرنے کا الزام لگانے لگے۔

===حیرت انگیز حیرت انگریز===

تاریخی صدیوں پر محیط بدحالی کے دوران پیدا ہونے والی زبان کو غلط اندازوں کی بنیاد پر فطری زبان اور آسان زبان کہا جانے لگا اور اسی غلط فہمی سے وہ راستہ اختیار ہوا کہ جس کا نتیجہ نا صرف صفر بلکہ مزید بربادی کے طور پر سامنے آیا۔ اردو میں تعلیم دینے والوں کا مقصد یہی تھا کہ علم کو بچوں کے لیے ” آسان” بنایا جائے اور ایک عہد جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ نوجوان قوم پیدا کی جائے ؛ مقصد تو بہت ہی اعلی تھا لیکن غلط اندازے لگاتے ہوئے تاریخی پسماندگی کے باعث پیدا ہونے پیدا ہونے والی زبان کو آسان اور عام فہم جان کر اس تعلیمی مقصد کر لیئے اختیار کیا گیا اور اصل روح رکھنے والی اردو کو نظرانداز کردیا گیا۔ اس صدیوں پرانی تاریخی بدحالی کی وجہ سے بننے والی اس اردو زبان میں وہ طاقت نا تھی کہ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر نئی سائنسی و [[طرزیاتی]] اصطلاحات پیدا کرے؛ نتیجہ یہ ہوا کہ ابتدائی تعلیم تو کسی نا کسی طرح نصابی کتب کو آسان اردو میں لکھ کر دی جانے لگی لیکن اعلی سطح پر جاکر گاڑی ٹھپ ہو گئی اور —- آسان اردو —– نے ساتھ چھوڑ دیا تو انگریزی کا سہارا لیا جانے لگا یوں جامعات کی سطح پر اعلی سائنسی تعلیم انگریزی کے سوا دیتے نا بنی۔ وہ زمانا آیا کہ اردو چھوڑ کر اپنی نا اہلی کی وجہ سے، انگریزی کو آسان سمجھا جانے لگا؛ اس حیرت انگریز بات پر انگریز بھی حیران ہو جائے کہ —– [[میڈولا اوبلانگیٹا]] —– تو آسان لگے اور اس کا اردو متبادل —— [[لب مستطیل]] —— مشکل اردو کے کھاتے میں پھینک کر نظر انداز کر دیا جائے۔

===ادنٰی زبان اور اعلٰی تعلیم===

وہ ادنٰی زبان جو صدیوں کی غلامی ، دینی و دنیاوی بدحالی ، سائنسی پسماندگی اور غربت کی کالی گھٹاؤں کی وجہ سے وجود میں آئی اسے فطری طور پر وجود میں آنے والی آسان اردو کہا جانے لگا؛ اور اس ادنٰی زبان کو غلط طور پر وہی زبان سمجھا جانے لگا جو آخری مغل دور کے درباروں میں رواں تھی حالانکہ وہ اعل{{ا}}ی اردو محض شعرا اور طبیبوں کے پاس محدود ہو گئی تھی اور عام انسان جسے فطری آسان اردو سمجھ کر بولتے تھے وہ غلامانہ ، عامیانہ و ادنٰی زبان تھی۔ اس ادنٰی زبان کو اعلٰی تعلیم کے لیئے منتخب کرنے کا لازم نتیجہ یہ سامنے آیا کہ ساٹھ (60) سال سے مدرسوں میں اردو میں ابتدائی تعلیم دی جاتی رہی ہے مگر کچھ حاصل نہیں ہو سکا۔ ابتدائی جماعتوں کے بعد اس ادنٰی زبان پر اٹھائی جانے والی اٹکل پچو اساس پر مزید عمارت کھڑی نہیں کی جا سکتی، اس لیے "اعلٰی” تعلیم کے لیے انگریزی اختیار کر لی جاتی ہے۔ چونکہ بیوقوف بنا کر غریبوں کے بچوں کو اردو میں تعلیم دینے کے بعد وہ تعلیم حاصل کرنے والے یا تو اعلٰی تعلیم کے لیئے انگریزی سیکھنے میں وقت برباد کرتے ہیں اور یا پھر بد دل ہوکر اعلٰی تعلیم کی کوشش بھول کے کوئی چھوٹی موٹی نوکری کرتے ہیں اور دونوں صورتوں میں نتیجہ ان کی معاشرتی حیثیت میں کمی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے جس کی وجہ سے اردو میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے والوں کو حقارت سے "اردو میڈیم” پکارا جاتا ہے۔ اردو وکیپیڈیا کا مقصد علم کو اردو میں قوی اساس فراہم کر کے منتقل کرنا ہے، اسطرح کہ اعلٰی تعلیم کا بوجھ بھی اردو اْٹھا سکے۔ وکیپیڈیا کو اس مقصد میں کتنی کامیابی ہوتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر جو طریقہ اردو وکیپیڈیا پر آسان اردو کے وکلاء اختیار کرنا چاہتے ہیں وہ تو ساٹھ سال سے آزمایا جا رہا ہےاور ناکام ہے۔

==ویکیپیڈیا پر ڈائی گلوسیا==

ویکیپیڈیا پر سائنسی مضامین ثنائی لسان یا diglossia کی کیفیت کو پیدا کرنے کا باعث نہیں بلکہ اس کو ختم کرنے کی جانب سفر کرتے ہیں۔ ثنائی لسان کی کیفیت کو دوزبانی یا bilingual سے تفریق کرنا لازمی ہے، ثنائی لسان کو متبادل الفاظ میں کسی بھی زبان میں ادن{{ا}}ی (عمومی لہجہ / روزمرہ بول چال) اور اعل{{ا}}ی (خصوصی لہجہ / محکمہ جاتی بول چال) کی موجودگی کہا جاسکتا ہے۔ ثنائی لسان کی اس تعریف کے مطابق وہ الفاظ جو کہ عام بول چال کے دوران عموما{{دوزبر}} ادا نہیں کیئے جاتے یا پھر خاصی بے تکلفی سے ادا کرے جاتے ہیں ان کو نصابی / کتابی یا دفتری زبان میں باآسانی اور بلا دقت استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن عام جگہوں پر ان کا استعمال یا تو ناموزوں سا لگتا ہے یا پھر مضحکہ خیز صورت بھی اختیار کرسکتا ہے اور اس بات کا زیادہ تر انحصار بات کرنے والوں کے روابط پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر

* انتہائی پرانے اور روزآنہ آپس میں تو تڑاخ سے بات چیت کرنے والے دوستوں میں کوئی ایک اپنے دوست کو

** ‘ ابے آ بیٹھ یار! اتنے دن بعد تو تو آیا ہے ‘ کہنے کے بجائے

** ‘ آیئے جناب بیٹھیئے، اتنے روز بعد تو آپ آئے ہیں ‘ کہے گا تو اسکا دوست اس اعل{{ا}}ی گفتگو پر یا تو حیران ہوگا یا پھر اسے مذاق سمجھے گا

* لیکن انتہائی پرانے اور روزآنہ تہذیبی و تعلیمی گفتگو کرنے والے دوستوں میں کوئی ایک اپنے دوست کو

** ‘ آیئے جناب بیٹھیئے، اتنے روز بعد تو آپ آئے ہیں ‘ کہنے کے بجائے

** ‘ ابے آ بیٹھ یار! اتنے دن بعد تو تو آیا ہے ‘ کہے گا تو اسکا دوست اس ادنٰی گفتگو پر یا تو حیران ہوگا یا پھر اسے مذاق (یا ہوسکتا ہے اپنی توہین) سمجھے گا

===سامنے کیا آیا؟===

مذکورہ بالا قطعے میں ثنائی لسان کی تعریف و مثال کے بعد یہ باتیں سامنے آتی ہیں

# زبان میں ثنائی لسان (ادنٰی و اعلٰی) پیدا کرنے میں الگ الگ ‘ الفاظ ‘ سے زیادہ ‘ قواعد (grammar) ‘ کا کردار اہم ہوتا ہے<br>یعنی مذکورہ بالا قطعے میں اجنبیت کا باعث بیٹھ کا لفظ نہیں بلکہ اس کا قواعدی استعمال بنا

# اگر کوئی لفظ (اصطلاح) دوران استعمال ؛ تعجب ، حیرت یا مضحکہ خیزی کا تاثر پیدا نا کرے تو ثنائی لسان کا موجب نہیں ہوتی

# کسی بھی زبان میں موجود ادنٰی لہجے کو اعلٰی اور اعلٰی لہجے کو ادنٰی کی جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے اور یوں ثنائی لسان کی کیفیت کو ختم کرنا ناممکن نہیں<br>لیکن اصل مسئلہ گفتگو کرنے والوں کے تعلیمی / تہذیبی یا ذہنی معیار کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے

# کوئی لفظ (یا با الفاظ دیگر اصطلاح) خواہ مشکل ہو یا آسان ، ثنائی لسان پیدا نہیں کرتی بلکہ ثنائی لسان کا اصل سبب تعلیمی یا علمی معیار ہوتا ہے

ویکیپیڈیا پر لکھے جانے والے تمام تر سائنسی و ریاضیاتی مضامین مکمل صحت اور نزاکت کے ساتھ اردو قواعد کی پیروی کرتے ہیں اور ان میں کسی بھی قسم کی قواعدی سہو سے ہر ممکن حفاظت کی مکمل کوشش کی جاتی ہے لہذا یہ بات تو طے ہے کہ ویکیپیڈیا کے مضامین اردو میں ثنائی لسان پیدا کرنے کا سبب کسی بھی طرح سے نہیں بن سکتے۔ ان میں جو مشکل اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں وہ خواہ کتنی ہی مشکل ہوں لیکن مضحکہ خیز نہیں ہوتیں بلکہ اپنی ایک لغاتی اساس رکھتی ہیں جن پر اگر غور کر لیا جائے تو اجنبیت ایسے ہی غائب ہو جائے گی جیسے انگریزی مشکل مشکل اصطلاحات سے غائب ہو جاتی ہے؛ گویا مسئلہ صرف اتنا سا ہے کہ اردو میں جب کسی سائنسی اصطلاح کا درست متبادل لکھا جاتا ہے تو اس کو سمجھنے کی خاطر لغت سے رجوع کرنے میں کوفت ہوتی ہے اور الزام لگا دیا جاتا ہے اردو مشکل ہونے کا لیکن جب کوئی نیا سائنسی لفظ سامنے آئے تو اس کے لیئے دس دس dictionaries رجوع کرنے میں بھی کوفت نہیں محسوس ہوتی۔

==نئے الفاظ سے لسانی تباعد و افتراق؟==

مغل دور ، اس کے بعد فرنگی دور اور پھر ہندو بازی کی تاریخ اور لسانیات اور زبانوں کی نمود و ارتقاء پر نظر رکھنے والا کون ہوگا جو اس بات سے انکار کر سکے کے اردو کو فارسی اور عربی سے دور کر نے اور ساتھ ساتھ ایک نئی زبان بنام ہندی کو پیدا کرنے میں برصغیر کی سیاست اور مذہبی عداوت کا بہت بڑا کردار شامل ہے؛ اس بات کا تذکرہ مضمون کے کسی بالائی قطعے میں بھی آچکا ہے۔ ویکیپیڈیا پر سائنسی مضامین میں اختیار کری جانے والی اردو پر اعتراض اصل میں اردو – ہندی کے فرق کو مٹانے کے مماثل ہے! [[1949ء]] میں ہندی سے اپنی حیثیت چھین لیئے جانے کے باوجود، آج بھی ہندوستان کی سڑکوں پر اردو زندہ ہے لیکن رفتہ رفتہ اس کا مقام مٹایا جاتا رہا اور مٹایا جارہا ہے، رفتہ رفتہ خود اردو بولنے والے عربی اور فارسی کو محض مذہب کی زبان سمجھ کر روزمرہ زبان میں ان کی قربت سے دور ہوتے چلے جارہے ہیں؛ وہ بات جو خروج انگریز کے وقت ہندو ذہنیت نے خواب کی مانند سوچی تھی اس کی تعبیر آج خود اردو والے پیدا کرنے میں معاون بن رہے ہیں۔ اردو میں موجود عربی و فارسی اصطلاحات کے باعث ہندو ہی نہیں خود انگریز کی سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ اس تعلق کو کیوں کر دور کیا جائے؟ لیکن آج خود نچلے درجے کی پسماندہ زبان اردو ہندی کھچڑی سے بننے والی زبان کو اردو والے — فطری زبان اور آسان اردو — کے نام سے یاد کر کے اصل اردو کو مٹانے پر جتے ہوئے ہیں۔<p align=”center”>جنت میں بھی اکل و شرب سے نہیں ہے نجات<br>دوزخ کا بہشت میں بھی ہو گا دھندا</p>اردو ویکیپیڈیا پر جب ہندو انگریز اثر کے تحت نکلنے والے اردو انداز اور الفاظ کو واپس لانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پرانی اور قدیم اردو سے ناواقف اردو والے معترض ہو جاتے ہیں۔ آج اگر [[خلوی اکل|phagocytosis]] کو — فیگو سائٹوسس — لکھا جائے تو اس کو آسان اردو کہا جاتا ہے اور اگر [[عربی]] زبان سے — [[اکل]] کا لفظ استعمال کرتے ہوئے اس کا درست اردو متبادل — خلوی اکل — اختیار کر لیا جائے تو ایک شور مچا دیا جاتا ہے اور مشکل اردو کے الزامات بلند ہونے لگتے ہیں ؛ حالانکہ آج سے کوئی تین سو سال قبل سے یہ عربی لفظ اکل اردو میں موجود ہے اور مذکورہ بالا شعر میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے مگر چونکہ وہاں شعر میں درج ہے اور شعر و شاعری ادب کے زمرے میں آجاتی ہے اس لیئے وہاں یہ جائز ہے لیکن ویکیپیڈیا پر سائنسی مضامین میں اس کا استعمال مشکل کہا جاتا ہے۔

===نئے الفاظ پرانے الفاظ===

سائنس تو ہے ہی اختراع اور ایجاد کا نام! اور جب ایجاد ہوگی تو اس ایجاد کو کوئی نام بھی دیا جائے گا؛ منطقی بات ہے کہ جب ایجاد نئی ، اختراع نئی تو اس کے لیئے نام بھی نیا ہی گا۔ پھر سائنسی مضامین پر نئے الفاظ درج کرنے کا الزام اور مشکل اردو لکھنے کا الزام اصل میں برحق نہیں بلکہ یہ سائنس کے بنیادی فلسفے سے ناواقفیت اور غیرمنطقی بحث اٹھانے کے سوا کیا ہے؟ سونے پر سہاگہ یہ کہ اردو ویکیپیڈیا پر ہر لفظ اپنی لغاتی اساس کی بنیاد پر منتخب کیا گیا ہے پھر جیسا کہ مذکورہ بالا قطعے میں بیان ہوا کہ فی الحقیقت ویکیپیڈیا پر نئے الفاظ گھڑے نہیں گئے بلکہ گھٹیا اور بازاری اردو زبان (جسکو آسان اردو کہا جاتا ہے) سے اپنی کاہلی کی بنا پر نکال دیئے جانے والے مستند الفاظ سے اخذ کیئے گئے ہیں۔ اگر اردو زبان بولنے والے تاریخی طور پر دانستہ غربت و پسماندگی کا شکار نا کیئے جاتے تو اردو میں نئی اختراعات و ایجادات کے سائنسی نام انگریزی سے جوں کا توں دھڑا دھڑ بھرے جانے کو کبھی قبول نا کرتے اور آج اردو میں وہی تمام نام و اصطلاحات دستیاب ہوتیں جن کو یہ اردو ویکیپیڈیا واپس لانے کی کوشش میں مصروف ہے۔

===الفاظ کیا ہیں؟===

اس بارے میں بہت تحقیق ہو چکی ہے کہ آیا ہم جو سوچتے ہیں وہ بولتے ہیں یا جو بولتے ہیں وہ سوچتے ہیں؛ گو یہ ایک علیحدہ سائنسی موضوع ہے اور اس کا یہاں تذکرہ محض الفاظ و اصطلاحات کی سائنسی زبان میں اہمیت کی بنا پر کیا گیا ہے۔ الفاظ (یا اصطلاحات) ہی سائنس ہیں! الفاظ اپنا ایک الگ تخیل اور تفکری پس منظر رکھتے ہیں اور محض ان کی طبیعیی بناوٹ یا ان کا خط تحریر ان کو پر معنی بناتا ہے اور نا ہی سائنس میں کسی طالب علم کو اس لفظ کی تعریف رٹا دینا کوئی معنی رکھتا ہے۔ الفاظ کے انسانی ذہن میں تجزیئے سے جو تخیل پیدا ہوتا ہے وہ محض الفاظ کی تعریف جان لینے سے نہیں بنتا بلکہ اس لفظ سے متعلق دماغ میں پہلے سے موجود تصورات سے مربوط ہو کر بنتا ہے؛ دماغ کے لیئے کوئی لفظ آسان ہوتا ہے نا مشکل بلکہ یہ آسان اور مشکل کا فرق صرف اس لفظ کے پس منظر کے موجود یا نا موجود ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک لفظ کے دوسرے الفاظ سے تعلق اور ان میں لغوی گہرائی کی وجہ سے ہی دماغ تجزیاتی انداز کی جانب جاتا ہے اور اسی گہرائی سے نئے تخیلات و سائنسی تصورات جنم لیتے ہیں اور پھر یہی تخیلات و تصورات نئی سائنسی راہوں اور ایجادات کا دروازہ کھولتے ہیں۔ یہ سب کچھ کسی دوسری زبان میں مہارت حاصل کر کے کبھی بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا اور اس گہرائی اور سائنسی مہارت کو صرف اسی زبان میں حاصل کیا جاسکتا ہے جس سے اس متعلقہ شخص کی روزمرہ زندگی ربط میں ہو اور کان مانوس ہوں۔

{{اقتباس|اگر سائنس کی نقل نہیں بلکہ اصل مقصود ہے تو پھر دو ہی راستے ہیں؛ یا تو اس زبان میں سائنس پڑھیں اور پڑھائیں جو روزمرہ زندگی میں کانوں کو مانوس ہو یا پھر اس زبان سے روزمرہ زندگی اور کانوں کو مانوس بنائیں جس میں سائنس پڑھنے پڑھانے کا قصد ہو۔}}

===الفاظ ، سائنس اور سائنسی حقیقت===

وہ پرانا تصور کہ انسان کے [[عصبون|دماغی خلیات]] پیدائش کے وقت ہی مستحکم اور مستقل صورت اختیار کر لیتے ہیں آج کی جدید تحقیق سے غلط ثابت ہو چکا ہے۔ دماغ کے خلیات ، زندگی کے تجربات کے ساتھ ساتھ نا صرف نئے [[فعلیاتی]] عوامل میں تبدیل ہوتے رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ [[نسیجیات|نسیجیاتی]] و [[تشریح|تشریحی]] بنیاد پر بھی ان میں نئی ساختیں اور آپس میں نئے روابط بنانے کی اہلیت ہوتی ہے۔ زبان و الفاظ کی سطح پر طبی تحقیقدان اس بات پر متفق ہیں کہ زبان اور الفاظ انسانی دماغ کی اس [[لدونت|عصبی لدونت (neuroplasticity)]] میں انتہائی اھم کردار ادا کرتے ہیں۔ کسی بھی لفظ سے پیدا ہونے والا تفکر یا کوئی خیال ، اس لفظ سے متعلق پس منظر میں موجود تجربات اور تجربات و تجزیات سے متعلق synapses کو متحرک کر دیتا ہے اور یہ سلسلہ [[ادراک]] و [[آگاہی]] جیسے دماغ کے اعل{{ا}}ی افعال تک جاتا ہے۔ زبان اور الفاظ سے متعلق بات یہیں تک نہیں رہتی بلکہ یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ زبان اور الفاظ کی وجہ سے اس synaptic plasticity (مشبکی لدونت) کا انحصار الفاظ کے لغوی پس منظر (گہرائی اور اپنائیت) سے متاثر ہوتا ہے اور اس لدونت سے عصبونات یا دماغی خلیات میں نئے دوران (circuits) پیدا ہو جاتے ہیں؛ اور اس کا براہ راست نتیجہ دماغی صلاحیت میں اضافے، نئی سوچ اور نئے تخیلات کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

===لسانی تباعد کیا ہے؟===

==حوالہ جات==

<div style=”font-size:small;”>

<references/>

</div>

[[زمرہ:وکیپیڈیا]]

[[زمرہ:اردو]]

[[زمرہ:لسانیات]]

تحریر از سمرقندی

Advertisements

Written by urdutext

مارچ 17, 2013 at 6:27 شام

اردو میں پوسٹ کردہ

جنگ ڈاٹ نیٹ سلیش اردو پر حروف کی بجائے کالے ڈبے

leave a comment »

کئی احباب نے شکایت کی ہے کہ روزنامہ جنگ کی اردو ویب سائٹ پر ادارتی صفحہ کچھ عرصہ سے صحیح نظر نہیں آ رہا؛ حروف کے بجائے کالے ڈبے نظر آوے ہیں۔ موقع جال کے منتظم مطلع کیا گیا مگر آفاقہ نہیں ہوا۔گمان ہوتا ہے کہ شاید پرانے زمانے کے کا کوئی یکرمزی مسئلہ (یو-ٹی-ایف 8) ہے یا فائرفاکس کا کوئی اختیار غلط ہے۔ اس کا ایک حل البتہ ہے۔

  • اپنا متصفح جال (براؤزر) بند کر کے دوبارہ چلائیں۔
  • اب روزنامہ جنگ کے کسی پرانا ادارتی صفحہ پر جائیں۔ مثلا یہ پرانا صفحہ نشان ذدہ کر لو۔
  • اس کے بعد دائیں ستون سے جس بھی ربط پر جاؤ گے وہ صفحہ درست نظر آئے گا۔

Written by urdutext

مئی 30, 2012 at 10:49 صبح

Uncategorized میں پوسٹ کردہ

scientific calculator Media SC-1000

leave a comment »


There is this inexpensive scientific calculator in the market marked "Media H.S.” SC-1000 "2-line display.” The phrase "Media H.S.” is marked in a stylish font. This calculator is marketed by various no-name outlets and importers. The calculator itself is excellent. If you are used to Casio variety calculators, you will find some of the key-sequences unusual and hard to figure if you don’t have its manual handy. Here I have scanned its "user’s manual” for easy reference.
Media H.S. SC-1000 scientific calculator سائنسی حسابگر

SC-1000 Scientific Calculator


You will find the same calculator with different face-plates and logos but all are based on the same chip under the hood. Other logos include "Advanced scientific calculator.” Look for the tell-tale "SHIFT”, "ALPHA”, "MODE CLR” and ARROW buttons on the top. The user manual is applicable to all of these.

Fx 82 MS


Casio also markets this same unit under the model fx-82MS. Its user manual is applicable to all versions from generic manufacturers and distributors.

Calculadora científica Famaprem CPC-400

Written by urdutext

ستمبر 4, 2011 at 12:30 صبح

calculators میں پوسٹ کردہ

گوگل پاکستان

leave a comment »


اکثر جہلاء کو معلوم نہیں کہ گوگل پاکستان بھی جالبین کی حد تک موجود ہے۔ اس کا اردو سطح البین بھی ہے مگر ترجمہ کا کام کسی اُلّو نے کیا ہے اس لیے اردو میں قابل استعمال نہیں۔ البتہ اردو اخراجہ میں اردو کلیدی تختہ ظاہر ہوتا ہے جو ان لوگوں کے لیے مفید ہو گا جن کے پاس اردو کلیدی تختہ اپنے شمارندہ پر نصب نہ ہو۔ گوگل کا رواج ہے کہ کسی ملک کے اہم دن پر وہ گوگل کا شارہ دن کی مناسبت سے ڈھال دیتا ہے۔ مثلا اگر آج چودہ اگست کو آپ اس صفحہ پر سیر کرو تو یوم آزادی کی مناسبت سے شارہ سبز، چاند تارہ، اور مینار پاکستان۔ لیے نظر آوے گا۔ عام دنوں میں تو پڑھنے والوں کو نظر نہیں آئے گا مگر اس ربط پر غالباً شارہ کی تصویر پھر بھی دیکھی جا سکے گی۔

Written by urdutext

اگست 14, 2011 at 2:12 شام

گوگل میں پوسٹ کردہ

ہائے مدونہ گر

leave a comment »


بلاگ کو اردو میں مدونہ کہتے ہیں۔ اکثر اردو مدونہ ساز خود کو "بلاگرز" کہلاتے ہیں۔ انگریزی زدہ اردو میں شوق فرماتے ہین۔ پھر رونا روتے ہیں کہ ان کی تحاریر ساتھی مدونہ سازوں کو چھوڑ کر کوئی پڑھتا نہیں۔ نلائقو اردو میں لکھو گے تو کوئی پڑھے گا۔ گوگل نے اردو میں تلاش کی سہولت فراہم کر رکھی ہے۔ یہ رہا اردو گوگل کا ربط۔ اس پر اردو کلیدی تختہ بھی موجود ہے جو ایسے بھی استعمال کر سکتے ہیں جن کے شمارندہ پر اردو تختہ نصب نہ ہو۔ تختہ کا نقشہ صوتی ہے، یعنی Aسے الف، B سے ب، وغیرہ۔ یہ نقشہ "ادارہ تحقیقات اردو" کے کلیدی تختہ کا ہی ہے جو کسی زمانہ میں ڈاکٹر سرمد کے زیر سایہ تھا۔ جب سے سرمد روانہ ہوا ہے، ان لوگوں کو ونڈوز 7 کا تختہ جاری کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔

Written by urdutext

جولائی 9, 2011 at 2:25 صبح

ہائے اردو میں پوسٹ کردہ

سکروگل

leave a comment »


سکروگل ایک دلچسپ خدمت ہے۔ یہ گوگل کو استعمال کر کے
آپ کی مطلوبہ عبارت تلاش کرواتی ہے اور نتائج آپ کو پکڑا دیتی ہے۔ صارف کے لیے فائدہ یہ ہے آپ کے ذاتی کوائف گوگل کے پاس نہیں جاتے۔ گوگل تمام ذاتی کوائف جمع کرتا ہے اور اپنے گوشوارہ میں محفوظ کرتا رہتا ہے، یہ بھی کہ آپ نے کس وقت کیا تلاش کیا، آپ کا اصل نام کیا ہے، کہاں رہتے ہو، وغیرہ۔ سکروگل یہ تمام معلومات گوگل تک نہیں پہنچنے دیتا۔

اس میں سبق ہے نہ صرف عام لوگوں کے لیے بلکہ چھوٹے ممالک کے لیے بھی، مثلاً پاکستان ٹیلیکومینیکیشن کارپوریشن۔ وہ سکروگل طرز کا اپنا موقع بنا سکتے ہیں اور پھر گوگل کو جانے والی تمام تلاش اپنے ذریعہ گوگل کو بھیج سکتے ہیں۔ اس سے تمام ملکی صارفین کا بھلا ہو گا اور ملکی راز امریکہ تک نہیں پہنچیں گے۔ چین نے گوگل کو بالکل ہی نکال کر اپنا تلاش محرکیہ "بیدو” بنایا ہوا ہے۔ اس میں سبق ہے تمام ذی عقل کے لیے۔

Written by urdutext

مئی 29, 2010 at 7:35 شام

گوگل میں پوسٹ کردہ

Musings on ALSA for AC’97

leave a comment »


I have an old ASUS P4P800-MX motherboard. After upgrading to Slackware 12, found that audio was not functional. Got a fresh copy of ALSA driver (alsa-driver-1.0.15rc) and libs, compiled them, still no sound. Following a lead on the web, made this modification in the code:

Disabled "patch_ad1888” in pci/ac97/ac97_codec.c
i.e., replacing the line (~111)

{ 0x41445368, 0xffffffff, "AD1888", patch_ad1888, NULL },
by
{ 0x41445368, 0xffffffff, "AD1888", NULL, NULL },

This made the sound OUT work, but on what I thought to be the wrong connector. Later playing with the patch_ad1888, I was able to make sound-IN work, but this got mapped on to the same connector as sound-OUT.

But all of the above was done in vain. Turns out that the driver does work without modification, you just have to play with the various audio mixers, and you have to play hard. The mixers are

    aumix
    alsamixer
    kmix (in KDE)

kmix input tab
The easiest to handle is kmix. This can be found on the KDE multimedia start menu and minimizes to the tray. Make sure that on the OUTPUT tab, the MASTER, MASTER MONO, and PCM are active and the corresponding volume bars are high.
On the INPUT tab, you would generally want the MIC and CAPTURE enabled (the bottom dull red button should turn bright pinkish). The top dull green button on MIC should be turned bright. Also the volume bars on MIC and CAPTURE should be sufficiently high.
On the SWITCHES tab, the HEADPHONE_JACK_SENSE should be OFF (unless you want to use the headphone jack instead of the speakers). "Spread-front-to-surrond” should be ON. Additionally, "exchange-front/surrond”, "external-amplifier”, "high-pass filter” and "vref-out” can also be enabled.

Since the jacks are reconfigurable you should try all 3 for speakers and mic (not just the ones that you think are I/O). Blue jack is the output to speakers. Pink is MIC, but strangely it can also act as output.

For recording from an ordinary MIC, you need another volume control that is not available in kmix. For this you have to use the mixer aumix and turn up the volume bar IGAIN to a suitable value.

Capturing sound
If you want to record the sound being played on the speakers (to a file), this turns out to be quite simple with the use of mixers. In aumix, configure "Rec”
checkbox to be besides VOL level (this checkbox will be red). Enusre that IGAIN bar is turned to zero (otherwise this will cause noise in the recording).

AUMIX settings

You can also use kmix, with the CAPTURE enabled and its vol bar turned high (other sources on the INPUT tab turned off). Now when something is being played on the speakers, in a terminal (e.g., konsole) do:

$ arecord > myrec.wav

Stop with Ctrl-C whenever you want. The recorded file can be played as

$ aplay myrec.wav

Of course, you can play with the command-line options of arecord. A simple one is
$ arecord -f cd > myrec.wav
for "CD quality” recording.

If you find that sound does not get recorded, check to see that your "surround jack mode” is set to "shared.”

kmix kde4

AUDACITY
If you want to do play with sound, audacity is the application that you will want. It can be also useful when you are fiddling with the mixers to make sound work for the first time.

Written by urdutext

دسمبر 26, 2007 at 11:45 شام

Linux میں پوسٹ کردہ